منگلورو:11/اکتوبر(ایس او نیوز)سکیو لرزم کے بغیر جمہوریت نہیں ، اسی طرح جمہوریت کے بغیر سکیولرزم بھی ناممکن ہے ، یہ دونوں لازم و ملزوم چیزیں ہیں، ایک کے بغیر دوسرے کا کوئی وجود ہی نہیں ہے، ان خیالات کا اظہار دہلی جواہرلال نہرویونیورسٹی کے مطالعہ تاریخ مرکز کے پروفیسر آدتیا مکھرجی نےکیا۔
وہ یہاں شہر کے یونیورسٹی کالج کے رویندرہال میں بی وی ککلائی پرتشٹھان ، سمدرشی پرتشٹھان ، ہوستو پتریکا، ایم ایس کرشنن پرتشٹھان اور منگلورو یونیورسٹی کالج شعبہ معیشت کے زیرا ہتمام پروگرام میں اپنا مقالہ پیش کررہے تھے۔
’’بھارت کا تصور : دور اندیشی اور چیلنجس‘‘کے عنوان پر پروفیسر صاحب اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ آج ملک میں جمہوریت اور سکیولرزم کو تقسیم کرنے کی سازش کی جارہی ہے، لفظ ’’ہندو ‘‘ کی تخلیق ہونے سے پہلے بھارت میں اسلام اور عیسائی مذہب موجود تھے۔ بھارت سکیولرزم ، یک جہتی ، مساوات ، بھائی چارگی، رواداری اور تحمل کی زمین ہونے کے شواہد تاریخ سےپتہ چلتاہے۔ فی الحال ہندو راشٹر کے نظریہ کی حمایت کرنے والے اقتدار پر قابض ہیں۔ آزادی کے موقع پر بھی آرایس ایس تشدد کے ذریعے سیاسی اقتدار پانے کی کوشش کی تھی ، یہی وجہ ہے کہ عدم تشدد کے ذریعے آزادی کی جنگ لڑنے والے مہاتما گاندھی ان کے لئے رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ عدم تشدد کے ذریعے جب ملک آزاد ہوا تو گولی سے ان کا قتل کیا گیا ، اور تعجب خیز کہ گاندھی کو قتل کئے تشدد کے حامی آج اپنے آپ کو گاندھی واد بتانے کی کوشش کررہے ہیں، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ایسی سازشوں سے سکیولرزم کے اصول کو برباد کرنا ناممکن ہے۔
حالیہ دنوں میں فاشسٹ نظریہ کے حامی سیاست دانوں کی وجہ سے ملک میں نفرت کا ماحول پیدا ہورہاہے۔ ایک ہی زمینی علاقہ پرذہنی سطح پر دو ممالک کو بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، سکیولرزم ، رواداری والے بھارت کو برباد کرنے کی مسلسل کوششیں ہورہی ہیں، اس کے لئے ریاستی اقتدار اور سڑک چھاپ طاقتیں ایک ہونے کی پروفیسر مکھرجی نے بات کہی۔
شہر کے مشہور ڈاکٹر اور بی وی کللائی کے بیٹے ڈاکٹر شری نواس ککلائی نے افتتاحی کلمات پیش کئے ۔ منگلورو یونیورسٹی کالج کے پرنسپال ڈاکٹر اُدئیے کمار نے استقبال کیا۔
نہرو نے ملکی حفاظت کی مضبوط بنا ڈالی : پروفیسر مکھرجی نے کہاکہ ہمارا ملک آج محفوظ ہے تو اس کے لئے آزادی کے بعد وزیراعظم کا عہدہ سنبھالے جواہرلال نہرو اہم وجہ سبب ہیں، نہر ونے تعلیم کوترجیح دیتے ہوئے جن منصوبہ جات کو تشکیل دینا ایک اہم بات ہے ۔ پہلے پنچ سالہ منصوبے کی زائد امدادتعلیم اور تحقیقی اداروں کو قائم کرنے کے لئے مختص کیا تھا، اسی بنیاد پر آج ہمارا ملک اتنا بڑا بنا ہے ، صنعت کاری کے انقلاب کے ساتھ ساتھ جمہوری نظام کے تحت بھارت 1950سے لے کر 1970تک 8گنہ تیز رفتاری سے ترقی کرنا ممکن ہوسکا۔ ملک کے لئے نہرو کی یہ سب سے بڑی دین ہے۔
اختلافات ظاہر کریں تو دیش دروہی کا لقب : بھارت کی جنگ آزادی ایک عوامی انقلاب تھا، سکیولرزم کے تحت جمہوری اقدار والی جدوجہد تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گی ، ملک میں جس طرح تنوع بڑھے گا ملک اسی طرح وسعت پائے گا۔ لیکن ہندو راشٹر کے جیسے خواب سکیولرزم اور جمہوری اقدار کو اکھاڑپھینکنے کی سازش ہے ۔ اس سلسلے میں کوئی آواز بلند کرتاہے، اپنی اختلافی فکرو نظر کو پیش کرتا ہے تو دیش دروہی کہا جاتاہے، اس کے لئے قتل بھی کئےجاتے ہیں، افسوس جتاتے ہوئے پروفیسر نے کہاکہ نریندر دھابولکر ، پروفیسر کلبرگی ، پنسارے وغیرہ نے اسی وجہ سے اپنی جانیں کھوئی ہیں۔
بھارت کی اصل طاقت سکیولرزم :جمہوریت اور سکیولرزم ایک اٹوٹ حصہ ہیں،یہی سبب ہے کہ آزادی کے بعد ملک میں جب پہلی مرتبہ انتخابات ہوئے تو ہندوتوا کے حامیوں کو صرف 6فی صد ووٹ حاصل کرنا ممکن ہوسکا۔ ملک کی آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والے دیش بھگتوں کے ذہنوں میں قومیت، سکیولرزم اور جمہوری اقدار مشترک تھے۔ انہی بنیادوں پر بھارت آزاد ہواتھا۔ انہی اصولوں کے ذریعے بھارت ترقی کی راہ پر گامزن تھا، لیکن اب پیچھے کی طرف چلنے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ ذات، دھرم کے تحت عوام کو تقسیم کیا جارہاہے ، ملکی سیاست دانوں اور لیڈروں میں غریبوں کے متعلق کوئی فکر نہیں ہے ، ہمارے سامنے یہ ایک اہم چیلنج ہے ، اس سلسلے میں ہمیں بیدار ہونے کی اپیل کی۔